نواز شریف، چی گویرا اور امام خمینی نہیں ہیں۔۔۔ حیدر جاوید سید

بات چی گویرا سے شروع ہوئی تھی اور امام خمینی تک پہنچ گئی، ہمارے نون لیگی دوستوں کی اکثریت تاریخ کے مضمون میں کمزور ہے۔

حیدر جاوید سید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بات چی گویرا سے شروع ہوئی تھی اور امام خمینی تک پہنچ گئی، ہمارے نون لیگی دوستوں کی اکثریت تاریخ کے مضمون میں کمزور ہے۔
چی گویرا ترقی پسند فریڈم فائٹر تھے، ساری عمر انقلاب اور آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھی و رہنما رہے، اسی جدوجہد میں اپنے نظریہ پر قربان ہوگئے۔
ایرانی انقلاب کے بانی سید روح اللہ موسوی امام خمینی متوسط طبقے کے خاندان کے فرزند تھے۔
قم میں پانچ مرلہ کا آبائی گھر ہی ان کا کل نجی اثاثہ تھا، انقلاب ایران ان کا فکری اثاثہ ہے، شاہ ایران کیخلاف کمیونسٹ تودہ پارٹی اور اسلام پسندوں کی جدوجہد ہر دو کی اپنی تاریخ ہے کس نے کس کی بوئی فصل کاٹی یہ ایک الگ موضوع ہے کیونکہ تودہ پارٹی کے حامیوں اور اسلامی انقلاب کے وارثوں کے دعوے مختلف ہیں۔
دونوں ایک دوسرے پر خوب الزام لگاتے اور ایک دوسرے کی بھد اُڑاتے ہیں۔ کسی دن شاہ مخالف تحریک کے ان دونوں اہم کرداروں کے حوالے سے عرض کروں گا۔
فی الوقت یہ ہے کہ سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر عمر کا یہ موقف بلکہ بڑھک درست نہیں کہ میاں نواز شریف بیرون ملک بیٹھ کر امام خمینی کی طرح کا انقلاب برپا کر دیں گے۔
بلاشبہ ووٹ کو عزت دو اور سول سپرمیسی کا نعرہ دونوں جمہوریت پسندوں کے دلوں پر دستک دیتے ہیں مگر کیا ان دو باتوں کے حوالے سے نون لیگ یا شریف خاندان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟
مکرر عرض کردوں کہ ایرانی انقلاب کے بانی یا چی گویرا پر کرپشن کے الزامات تھے نا دونوں کے خاندانوں کا آبائی وطنوں یا وطن سے باہر پھلا پھولا کاروبار۔
ہوسکتا ہے جناب نواز شریف اور ان کے خاندان پر کرپشن کے الزامات درست نہ ہوں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ایک دولت مند خاندان کی دوسری نسل ہیں، ان کے بچے تیسری نسل۔ میاں محمد شریف اپنے والد میاں رمضان کے چند برس بعد امرتسر سے لاہور آئے یہ پچھلی صدی کے سال 1937یا 1938کی بات ہے، انہوں نے محنت مزدوری کی بٹوارے کے وقت وہ ریلوے روڈ لاہور پر جس ہندو کی بھٹی پر ملازم تھے مالک جاتے ہوئے انہیں دے گیا۔
طے یہ تھا کہ اگر مالک واپس آگیا تو ٹھیک ورنہ میاں شریف اور ان کے بھائی اس بھٹی کے مالک ہوں گے۔
یہ شروعات تھیں، میاں شریف نے محنت کی اپنی دنیا بسائی اور 1970کی دہائی کے آتے آتے وہ لاہور کے چند اچھے کاروباری افراد میں شمار ہوتے تھے، ان کی محنت لگن اور خاندان کو آگے بڑھانے پر دو آراء بالکل نہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے، صنعتیں قومی تحویل میں لی گئیں، اتفاق فونڈری بھی قومی تحویل میں چلی گئی، وہ چونکہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرکر بیٹھنے کے عادی نہیں تھے، اس لئے دو دوستوں کے تعاون سے پھر میدان عمل میں اُترے (یہ دوست تھے اولاً میاں محمد اظہر کے والد اور ثانیاً میاں زاہد سرفراز کے والد بزرگوار) پاکستان کے اندر اور باہر (متحدہ عرب امارات) میں محنت کی اور اپنی دنیا پھر آباد کرلی، شریف خاندان اپنی دنیا سمیت جنرل جیلانی (پنجاب کے فوجی گورنر) کی سرپرستی میں آگیا، نواز شریف قبل ازیں سیاست کا شوق تحریک استقلال کے پلیٹ فارم سے پورا کرتے تھے، جنرل جیلانی سے یہ خاندان بریگیڈئر قیوم قریشی کے توسط سے متعارف ہوا اور پھر جیلانی کے ذریعے جنرل ضیاء الحق تک پہنچا۔
اتفاق فانڈری انہیں جنرل ضیاء کے حکم سے واپس ملی، اس وقت فیکٹری بینکوں کی چھ کروڑ کی مقروض تھی جو جنرل ضیاء کے حکم پر رائٹ آف کر دئیے گئے۔
نواز شریف جنرل جیلانی کی پنجاب کونسل سے ہوتے ہوئے پنجاب کے وزیرخزانہ بنے۔
اس موڑ سے ان کا وہ عروج شروع ہوا جو سب کے سامنے ہے، کاروباری ترقی کیلئے حکومتی ذرائع استعمال ہوئے۔ بزنس مین سیاستدان بنے تو اتنا تو اس کا حق ہے۔
وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تو اس وقت جنرل ضیاء کے نفس ناطقہ تھے۔
اتفاق گروپ پھلا پھولا، اس دوران میاں محمد شریف نے اپنے بھائیوں سے مالی معاملات طے کر لئے، اتفاق گروپ میاں شریف اور ان کے بچوں کی ملکیت رہا دیگر بھائیوں نے اپنی اپنی دنیائیں الگ بسالیں، جنرل ضیاء الحق طیارے کے ایک حادثہ میں رخصت ہوئے، 1988میں سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے جنرل حمید گل کی سرپرستی میں پیپلزپارٹی کیخلاف اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا۔
88 اور 90 کے انتخابات میں آئی جے آئی کے سیاستدانوں کو آئی ایس آئی نے پیسہ فراہم کیا گیا (یہ کہانی اصغر خان کیس کی صورت میں سپریم کورٹ میں موجود ہے)۔
جناب نواز شریف محترمہ بینظیر بھٹو کے مقابلہ میں سول ملٹری اشرافیہ کے محبوب دلنواز کے طور پر سامنے آئے، اداروں نے کھل کر ان کی مدد کی، 1990 کے انتخابات کے دوران پنجاب میں سات سو گھوسٹ پولنگ اسٹیشن ہی آئی جے آئی کی تاریخی کامیابی کی ضمانت بنے، وہ تین بار وزیراعظم بنے، تینوں بار ان کی لڑائی اپنے لانے والوں سے ہوئی۔
ان لڑائیوں کا ایک نتیجہ دس سالہ معاہدہ جلاوطنی کی صورت میں بھی نکلا، جس کے بارے میں جاتی امراء کے کردارساز دانشور اور صحافیوں کی رائے ہے کہ ذوالفقار بھٹو کی طرح پھانسی چڑھنے اور بینظیر بھٹو کی طرح سڑک پر مارے جانے سے یہ معاہدہ سیاست کی آبرو ہے۔
نواز شریف جب اقتدار میں ہوتے ہیں یا اقتدار کے حصول کے مرحلہ میں تو دونوں مواقع پر وہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ کھڑے ہو کر پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگاتے ہیں۔
پہلے وہ اے آر ڈی میں پیپلزپارٹی کیساتھ تھے اب پی ڈی ایم میں، کیا انہوں نے ماضی سے سبق سیکھا؟
اس سوال کے جواب میں ان کے حامی انہیں ایک انقلابی رہنما بن کر پیش کرتے ہیں اور ناقدین ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں۔
کرپشن کے مقدمات غلط ہیں یا درست یہ الگ بحث ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ علاج کیلئے بیرون ملک محض میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر گئے تھے؟
ضمنی سوال یہ ہے کہ کیا وہ بدل گئے ہیں اور اب حقیقی جمہوریت کیلئے عوام اور اتحادیوں کیساتھ کھڑے ہوں گے؟

مجھے ان میں ایک تبدیلی یہ دکھائی دی کہ انہوں نے چند دن قبل بلوچستان کی اپنی اتحادی حکومت کو گرانے والے اصل کرداروں کا نام لیکر اس لٹھ بازی کو روک دیا جو پچھلے تین ساڑھے تین سالوں سے پیپلزپارٹی کیخلاف ہو رہی تھی۔
البتہ یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ وہ چی گویرا ہیں نا امام خمینی،
وہ نواز شریف ہیں اور نواز شریف گھاٹے کا سودا نہیں کرتا، اس لئے یہ کہنا کہ ان کا سیاسی کردار ختم ہوچکا بے پرکی کے سوا کچھ نہیں، وہ زندہ حقیقت ہیں، یہ مان لیا جانا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: