ملکی مسائل کا واحد حل۔۔۔رضوان ظفر گورمانی

ریشی خاندان نے آبائی بستی شیخ عمر میں رقبے عطیہ کر کے سرکاری ہسپتال جانوروں کا ہسپتال لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے سکول حتیٰ کی بینک تک بنوا دیا۔

رضوان ظفر گورمانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گورمانی قبیلے کے چیف نواب مشتاق خان گورمانی سے تاریخ پاکستان سے آگاہی رکھنے والا ہر شخص واقف ہے۔لیاقت علی خان نواب آف کالا باغ اور نواب مشتاق خان گورمانی اک ہی درجے کے سیاستدان تھے۔نواب مشتاق خان گورمانی گورنر پنجاب گورنر مغربی پاکستان کے علاوہ وزیر داخلہ بھی رہے۔قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں نواب صاحب کا ذکر جیسے کیا وہ ان کی شخصیت کو مسخ کرنے کے مترادف تھا۔شہاب نامہ اک مقبول کتاب رہی اس وجہ سے پاکستانیوں کی اکثریت نواب صاحب کو تشدد پسند مغرور انسان سمجھتے ہیں جبکہ اصل میں نواب مشتاق خان گورمانی اتنے روادار انسان تھے کہ اس ڈر سے اپنے آبائی علاقے ٹھٹھہ گورمانی کی سڑک تعمیر نہ کرائی کہ ان پہ کرپشن یا اقربا پروری کا الزام نہ لگ جائے۔سیاست میں شرافت ان کا وطیرہ رہی ایوب خان دور میں گورمانی خاندان ایبڈو کی زد میں آ کر سیاست سے دور ہوا تو ان کا سارا وقت ٹھٹھہ کی مسجد میں عبادت کرتے گزرا کرتا تھا۔اسی طرح ہمارے وسیب کے اک اور بزرگ سیاستدان نے بھی اس ڈر سے کہ ان پہ کرپشن کا الزام نہ لگ جائے ترقیاتی فنڈز استعمال نہ کیے اور اک دھیلا خرچ کیے بنا تمام فنڈز واپس ہو گئے۔
سرائیکی وسیب کے سیاستدانوں کا یہی المیہ رہا اول تو انہیں فنڈز ملے نہیں اگر ملے تو یا تو انہیں خرچ نہیں کیا گیا اگر خرچ کیا بھی گیا تو ایسے منصوبوں میں جن سے علاقے میں تعلیم و شعور نہ پنپنے پائے۔روایتی سیاستدان عوام کو جہالت کے اندھیروں میں رکھ کر اپنا الو سیدھا کرنے کی پالیسی پہ کاربند رہے۔
نئی نسل کے سیاستدان نے جو اپنے والدین کی بدولت لاہور کراچی یا بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے لوٹے تو انہوں نے البتہ ترجیحات میں تعلیم کو شامل کیا سابق صوبائی وزیر ملک احمد یار ہنجرا نے اپنے حلقہ میں اک بھی ایسی یونین نہیں چھوڑی جس میں لڑکے اور لڑکیوں کے لیے سرکاری سکول نہ بنوائے ہوں۔
سابق سینیٹر میاں امجد عباس قریشی بھی ہمارے علاقے کے پڑھے لکھے سیاستدانوں میں سے اک ہیں۔بیرون ملک سے تعلیم حاصل کی اور سیاست میں آ کر صحیح معنوں میں کام کر کے دکھایا۔سرائیکی سیاستدان عموماً ایوانوں میں گونگے رہتے ہیں۔چونکہ امجد عباس قریشی بنیادی طور پہ زراعت سے وابستہ ہیں اس لیے انہوں نے کسانوں کے لیے آواز اٹھائی۔مشرف دور میں شوگر ملز کو جوابدہ کرنا ان کا ہی دل گردہ تھا۔
حال ہی میں جب حکومت سرکاری نرخ پہ کسان سے زبردستی گندم خرید رہی تھی تو یہ اڑ گئے تھے سرکار نے ان کی طرف رخ ہی نہیں کیا۔یہ کہتے ہیں کہ حکومت کا ایسا اقدام بنیادی حق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
ان کے والد میاں عباس قریشی ماضی کے معروف سیاستدان تھے۔علاقے کے تمام سیاسی خانوادوں سے آپسی تعلق کو قائم رکھنے میں ان کا بڑا کردار رہا ان کی وجہ سے سیاسی مخالفت سیاست تک ہی محدود رہی اور سیاست میں ذاتیات نہ گھسنے پائی۔میاں امجد عباس قریشی نے ہوش سنبھالا تو اپنے ارد گرد علاقے کے جغادری سیاستدانوں کو پایا۔حاجی سلطان ہنجرا ملک غازی کھر میاں طارق گورمانی میاں مہر احمد گورمانی جیسے سیاستدانوں کے بیچ رہ کر انہوں نے سیاست سیکھی۔لیکن جب وہ عملی طور پہ سیاست میں آئے تو انہوں نے بزرگوں کی روایات کے برعکس نئی طرح کی سیاست متعارف کرائی جس میں عوام و سیاستدان دونوں کا فائیدہ ہوتا۔سرائیکی وسیب میں تھانہ کچہری ناجائز مقدمے قبضہ قتل وغیرہ کے فیصلوں میں متحرک کردار ادا کیے بغیر سیاست کا تصور محال ہے مگر قریشی خاندان نے شرافت کی سیاست کی نئی اصطلاح متعارف کرائی۔گو برسر اقتدار قریشی خاندان کے چند اک اعمال کی بدولت لگتا ہے کہ اب وہ شرافت کی سیاست کو کہیں پیچھے چھوڑ چکے ہیں لیکن بہرحال میاں عباس قریشی خاندان کی شرافت کی گواہی ان کے مخالفین بھی دیتے ہیں۔
ان کی نئی طرز کی سیاست کو سمجھنے کے لیے ان کے آبائی علاقے شیخ عمر کی مثال لیتے ہیں۔قریشی خاندان نے آبائی بستی شیخ عمر میں رقبے عطیہ کر کے سرکاری ہسپتال جانوروں کا ہسپتال لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے سکول حتیٰ کی بینک تک بنوا دیا۔سڑکیں بجلی حتیٰ کہ گیس تک فراہم کر دی۔انہوں نے علاقے کو پسماندہ رکھنے کی بجائے اس کی ترقی پہ توجہ دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جی ٹی روڈ سے ہٹ کر چھوٹا سا قصبہ شیخ عمر کاروبار کا مرکز بن گیا۔
اب انہوں نے شیخ عمر میں مارکیٹیں بنوائیں اور دکانوں کو کرایہ پہ دے دیا۔اچھا بزنس ہونے کی وجہ سے ان کو وسیب کے کسی بھی اچھے شہر جتنا کرایہ ملنے لگا،دکانداروں کو اچھی روزی اور مقامی آبادی کو گھر کی دہلیز پہ سہولیات ملنے لگیں۔یہ صحیح معنوں میں ون ون سچوئشن تھی۔
میاں امجد عباس قریشی سے اکثر و پیشتر گپ شپ رہتی ہے۔اک دن انہوں نے ایسی ہی اک سیاسی بیٹھک میں سوال کیا کہ آپ لوگوں کے نزدیک پاکستان کے تمام مسائیل کا واحد حل کیا ہے یا یوں کہہ لیں کہ وہ کون سا واحد مسئلہ ہے جسے حل کرنے سے ملک ٹھیک ہو سکتا ہے۔حاضرین محفل میں کسی نے کہا جمہوریت کسی نے کہا تعلیم کسی نے کہا شعور کی کمی تو کسی نے کہا کرپشن۔راقم نے عرض کیا کہ طالب علم کے نزدیک پاکستان کی ترقی کا واحد حل ” عدل ” ہے۔
ملک میں جمہوریت ہو یا آمریت عوام خواندہ ہو یا ناخواندہ کرپشن ہو یا ایمانداری جب تک عدل قائم نہیں ہو گا ملک ٹھیک نہیں ہو سکتا۔یہاں امیر و غریب کے لیے دو الگ الگ نظام ہیں۔سسٹم طاقتور کے سامنے بھیگی بلی بنا رہتا ہے جبکہ کمزور کو دباتا ہے۔جس دن پاکستان میں امیر غریب لاچار و طاقتور کا فرق کیے بنا ہر کسی کو اس کے کیے کی سزا ملنا شروع ہو گئی اس دن سے ملک کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔آپ کیا سوچتے ہیں ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: