اطلاعات کے شعبہ (صحافت) میں نون لیگ کے ایک میڈیا منیجر نے خبر اُڑائی ہے کہ
”نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے اٹھارہویں ترمیم میں ترمیم کیلئے نیب قوانین کے حوالے سے اپنی تجاویز کا مسودہ تیار کرلیا۔
دونوں جماعتوں میں اتفاق رائے ہے کہ اگر نیب قوانین میں ترمیم کے ان کے مسودہ پر حکومت تعاون کرے تو اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے بات ہوسکتی ہے“۔
اخبار نویس کے رابطے پر پیپلز پارٹی کے ذمہ دار رہنماؤں نے ایسی کسی مشاورت اور یقین دہانی کی تردید کری ”
حقیقت کچھ یوں ہے کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ اس امر کی شاکی رہی کہ 2010ء میں جب اس نے نیب قانون میں تبدیلی کیلئے اپنے تیارکردہ بل پر پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت شروع کی تو نون لیگ نے نہ صرف مشاورت کے عمل میں شریک ہونے سے انکار کر دیا بلکہ قومی اسمبلی میں اس وقت کے قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے ”تاریخی“ کھڑکی توڑ خطاب پھڑکاتے ہوئے پیپلز پارٹی کی تجاویز اور بل کو جمہوریت‘ قانون اور ملک کے وقار کے منافی قرار دیا تھا۔
کسی کو اگر خواجہ محمد آصف اور خواجہ سعد رفیق کیساتھ وزیراعلیٰ (اس وقت کے) پنجاب شہباز شریف کی اس حوالے سے کی گئی تقاریر یاد ہوں تو وہ ان تقاریر کے بہاؤ سے جی بہلائے۔
نون لیگ کے میڈیا منیجر ہر چند دن بعد نیا شوشہ چھوڑتے ہیں ہمارے اکثر پنجابی ”اہل دانش“ اور محبان جاتی امراء کا اصل مسئلہ آج بھی پیپلز پارٹی کو رگیدنا اور شریف خاندان کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا ہے۔
18ویں ترمیم پیپلز پارٹی نے نہیں بلکہ اس وقت کے منتخب ایوانوں نے دوتہائی اکثریت کیساتھ منظور کی۔ اس ترمیم میں نون لیگ کا سودا بھی شامل تھا اسی کی بدولت دو بار وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے والوں پر تیسری بار اس منصب کیلئے اُمیدوار نہ بننے کی پابندی ختم ہوئی
یہ پابندی جنرل پرویز مشرف والی ترمیم میں لگائی گئی تھی جس کی منظوری کیلئے ایم ایم اے نے بھرپور تعاون فراہم کیا تھا۔
اس تعاون کے ابتدائی مسودے کے تحت پیشگی طور پر قومی اسمبلی کے سپیکر نے رولز آف بزنس میں ازخود ترمیم کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کو اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا تھا حالانکہ قومی اسمبلی میں تب پی پی پی‘ نون لیگ اور دوسرے پارلیمانی گروپوں کے پاس ایم ایم اے سے زیادہ ارکان تھے۔
تب بعض خبر نگاران نے یہ اطلاعات فراہم کیں کہ نون لیگ نے سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کو خاموش رضامندی فراہم کردی تھی کہ وہ مولانا کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر قانونی اعتراض نہیں کرے گی
حالانکہ تب اے آر ڈی موجود تھی اور فیصلہ یہ بھی تھا کہ اے آر ڈی کی جماعتیں قومی اسمبلی میں اپنا اپوزیشن لیڈر لائیں گی‘ مگر جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور یہی تاریخ ہے۔
نون لیگ کیلئے ایک بڑا میڈیا گروپ پچھلے بارہ برسوں سے میڈیا منیجری سنبھالے ہوئے ہے، اس گروپ کے اکثر تجزیہ کاروں‘ لکھاریوں اور دیگر احباب کی جاتی امراء پرستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
نیب قوانین میں تبدیلی کے اپنے مسودے کی پذیرائی کی شرط پر اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے تعاون کی سٹوری میں گو جناب نواز شریف کے حوالے سے دو اختلافی سطریں ڈال دی گئی ہیں لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ کہانی جناب شہباز شریف کی رضامندی سے مارکیٹ میں پھینکی گئی ہے۔
شہباز شریف کی سیاسی لائن بہرطور اپنے بھائی نواز شریف سے مختلف ہے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ مریم نواز اور پارٹی میں ان کا گروپ شہباز شریف کی جگہ خاقان عباسی کو پارٹی صدر بنوانا چاہتا ہے البتہ خواجگان سمیت کچھ دوسرے رہنما شہباز شریف کیساتھ ہیں۔
اور شہباز شریف یہ تاثر دے چکے ہیں کہ چودھری برادران سے ان کے معاملات طے ہیں۔
ادھر صورت یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے ترجمانوں کے اصلی لشکر کیساتھ چند جعلساز بھی 18ویں ترمیم کے مسئلہ پر سندھ اور خصوصاً پیپلز پارٹی پر حملہ آور ہیں۔
صورت یہ بن چکی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں ایک ریاستی ادارے کی سفارش پر تجزیہ نگار بننے والے سابق سفارتکار ظفر ہلالی نجی چینلوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ
”18ویں ترمیم اور شیخ مجیب الرحمن کے 6نکات میں کوئی فرق نہیں۔ بھٹو صاحب شیخ مجیب کے 6نکات کے مخالف تھے نواسہ 6نکات جیسی ترمیم کا حامی ہے“ حضرت یہ بھی فرماتے ہیں کہ مجھے حیرانی ہے کہ 18ویں ترمیم کی منظوری کے وقت اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پریز کیانی خاموش کیوں بیٹھے رہے
انہیں اس ترمیم کو منظور ہونے سے روکنے کیلئے مداخلت کرنا چاہئے تھی۔
ظفر ہلالی جیسے سفارشی تجزیہ نگار ہوں یا ماڈریٹ رجعت پسند دانشور ان دونوں کیساتھ نون لیگ کے میڈیا منیجران 18ویں ترمیم کے حوالے سے ایسی ایسی کوڑیاں لارہے ہیں کہ بندہ حیران ہوجاتا ہے۔
پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ اصل مسئلہ 18ویں ترمیم نہیں بلکہ این ایف سی ایوارڈ ہے۔
وفاق چاہتا ہے کہ مالیاتی نظام میں صوبوں کاحصہ کم کرکے وفاق کو اضافی رقم دلوائی جائے۔ چند دن قبل وزیراعظم کے قریب بلکہ ان کی زبان سمجھے جانے والے ایک صحافی ٹی وی پروگرام میں صاف کہہ چکے
”محدود وسائل اور 48کلو میٹر رقبہ پر ہی عمران خان وزیراعظم ہیں اور یہ 18ویں ترمیم کی وجہ سے ہے“ سمجھنے والوں کیلئے اس میں نشانیاں بہت ہیں۔ تنازع میں حالیہ شدت اس بات پر ہے کہ وفاق نے کورونا وبا کے حوالے سے عالمی طور پر ملنے والی امدادی رقم اپنے پاس رکھ لی ہے، کچھ رقم اس میں سے این ڈی ایم اے کو دی گئی مگر وزیراعظم نے کہہ دیا ہمیں تو ایک ڈالر کی امداد نہیں ملی۔
بدترین حالات میں تیسری جنگ عظیم کا سماں کس نے بنایا؟
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم محض چند لفظی نہیں دستور کے 220سے زیادہ آرٹیکل اور سب آرٹیکل اس میں تبدیل یا ترمیم ہوئے ہیں۔
وفاق کو شوشے چھوڑنے کی بجائے پارلیمانی جماعتوں سے سنجیدہ بات چیت کرنا ہوگی۔
سنجیدہ مذاکرات کے بغیر ترمیم سے چھیڑ چھاڑ یا کسی آرڈیننس اور فیصلے کی آڑ میں کچھ آرٹیکل کو معطل کروانے کی حکمت عملی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے ۔
پیپلز پارٹی نے 2008ء میں وفاقی دستوری عدالت کی تجویز پیش کی تھی اس تجویز کا جو حشر نون لیگ کی قیادت اور چودھری افتخار اینڈ کمپنی نے کیا وہ یاد کیجئے۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نون لیگ کے میڈیا منیجروں کو اپنے مالکان کی سیاست سازی کیلئے ان کے مفادات کا بوجھ دوسروں پر نہیں ڈالنا چاہئے۔
تحریک انصاف کو بھی زمینی حقیقت سامنے رکھنا ہوگی فی الوقت سیاسی ہم آہنگی موجود نہیں ایسے میں دستور سے چھیڑ چھاڑ صرف دستور کیلئے ہی نہیں نظام حکومت اور ریاست کیلئے مسائل پیدا کردے گا۔

اے وی پڑھو
کریمݨ نقلی۔۔۔||ملک عبداللہ عرفان
دیپک راگ، ثریا ملتانیکر اور لوح اعزاز کی کہانی||رانا محبوب اختر
خالی لفظاں دا میلہ||سعید اختر