چار اپریل ۔۔۔۔۔۔ یومِ شہادت ذوالفقارعلی بھٹو ، اس شہادت کا سبق اور انتقام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
بھٹو آیا ، چھا گیا اور چلا گیا۔ بھٹو کے آنے اور چھا جانے کی وجہ صرف سندھ سے معروف بھٹو قبیلے کے بڑے جاگیردار سر شاہنواز بھٹو کے گھر جنم لینا نہیں اور نہ ھی فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ کا ممبر/وزیر رہنا ھے۔۔ ورنہ تو پھر سندھ کے سارے بھٹوؤں اور تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل ایوب خان اور اس کی باقی کابینہ سے آج بھی پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھٹو کا آنا اور چھا جانا ھے تو وہ ھے پاکستان کے ان کروڑوں محنت کشوں کی 67-68 ء کی انقلابی سرکشی/تحریک ۔ جس میں موچیوں، ترکھانوں، حجاموں، نانبائیوں ، چماروں، کمہاروں، لوہاروں ،خاکروبوں، کمیوں کاسبیوں ، کسانوں، طالب علموں اور مزدوروں نے وسائل پیداوار یعنی جاگیر اور کارخانے کی ملکیت رکھنے والے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، پیروں، مخدوموں ، خوانین اور سرداروں کے جبری احترام کے جوئے کو اپنے گلے سے اتار کر پھینک دیا تھا۔ وہ پروگرام تھا کہ جس کے تعارف اور ادراک میں یہ نعرے لگائے جاتے تھے کہ "طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں”۔ "جیرھا رہاوے اوہو کھاوے”، "جیرھا نہ رہاوے جوتیاں کھاوے”، "مِل مزدور کی ، کھیت کسانوں کے”۔یعنی سوشلسٹ پروگرام اور سوشلسٹ منشور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھٹو بہت کچھ کرنا چاہتا تھا۔ اور یہ درست ھے کہ وہ بہت کچھ نہیں بھی کر سکا۔ مگر جو کر گیا وہ شاید اس وقت بتانے سے سمجھ نہ آئے۔ مگر اگر وھی کچھ آج کی حکومتیں کر دکھائیں تو لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی کی رہ جائیں۔ مزارعین کی جبری بیدخلیوں کا خاتمہ، مزدوروں کے قوانین کا تحفظ، کام کے دوران معذور یا وفات پا جانے والوں کے خاندان کی تعلیم و علاج اور رہائش وغیرہ سمیت مکمل کفالت کارخانہ دار کی ذمہ داری۔ ہر پیشے/شعبے کو ہر سطح پر یونین سازی کا حق۔ آئینی طور پر ریاست کو تمام شہریوں کے روزگار اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کا پابند کرنا۔۔۔۔۔۔
اور اس وقت کی بھٹو حکومت کا سب سے بڑا اور معتبر کام کہ جس کا تصور صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے کسی بھی ملک میں تصور نہیں کیا جا سکتا یعنی ملکی بجٹ کا 42 فیصد صحت اور تعلیم کیلئے مختص کرنا ( آجکل پاکستان میں یہ بجٹ تقریباً 3.06 فیصد ھے) ۔۔۔۔
ذوالفقار علی بھٹو جو نہیں کر سکا۔ تو بھی اس کی یہ عظمت ھے کہ شہید بھٹو نے اس نہ کر سکنے کا اعتراف بھی کیا اور نشاندھی بھی۔ بھٹو نے جیل میں لکھی گئی اپنی کتاب ” اگر مجھے قتل کیا گیا”، میں لکھا کہ "میں نے دو طبقوں (امیر اور غریب) کو آبرومندانہ طریقے سے ایک ساتھ چلانے کی کوشش کی۔ آج میرا جیل میں ہونا ثابت کرتا ھے کہ یہ میری غلطی تھی۔ کیونکہ ایک طبقے کی فتح(زندگی) دوسرے طبقے کی شکست( موت) ہوتی ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھٹو کو اگر اپنی غلطی کا احساس تھا تو یہ ادراک بھی کہ میرا جیل میں ہونا اسی امیر طبقے کی وجہ سے ھے جو عوام کی نظروں میں تو محترم نہیں تھا لیکن میں نے اسے محترم بنانے کی کوشش کی۔ تبھی تو ذوالفقارعلی بھٹو نے جیل میں بیٹھے بیٹھے غریب طبقے سے سرخرو ہونے کا تہیہ کرلیا اور ساری دنیا کو گواہ بنا کر کہا کہ ” مَیں تاریخ میں فراموش کردئیے جانے کی بجائے اس بات کو ترجیح دونگا کہ فوج کے ہاتھوں کچلا جاؤں”۔۔۔۔۔ پھر ذوالفقارعلی بھٹو اپنی گواھی پر قائم رہ کر آج کے دن امر ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چلا تو گیا مگر ایک سوالیہ نشان چھوڑ کے۔ وہ سوال یہ ھے کہ ” کیا میرے قاتل (امیر) طبقے سے مصالحت کر کے اس کو نجات دہندہ سمجھنا میری عظمت اور مجھ سے تعلق و رشتے کا اظہار منافقت نہیں ہوگی ؟”۔۔۔۔۔۔۔ آئیے مصالحت و منافقت کی کالک سے بچنے اور شہید بھٹو کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم کریں ان نعروں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
"جیرھا رہاوے، اوہو کھاوے” ۔۔۔۔۔۔۔”سوشلزم آوے آوے”۔۔۔۔۔۔۔۔ "مِل مزدور کی، کھیت کسانوں کے”۔ ۔۔۔۔۔۔۔طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ "انقلاب انقلاب ، سوشلسٹ انقلاب”۔۔۔۔۔۔۔۔

اے وی پڑھو
کریمݨ نقلی۔۔۔||ملک عبداللہ عرفان
دیپک راگ، ثریا ملتانیکر اور لوح اعزاز کی کہانی||رانا محبوب اختر
خالی لفظاں دا میلہ||سعید اختر