مئی 18, 2026

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

غلام حسین خان مشوری بگٹی: کوہ سلیمان کے دامن میں انگریزی سامراج کے خلاف جہاد کا علمبردار…….!!||آفتاب نواز مستوئی

برادران محترم ۔! ۔آپکا نکتہ نظر آپکے خیال میں درست ہوگا مگر میری رائے میں پاکستان کے موجودہ چار صوبوں کی صورتحال حجم یا جغرافیہ کے لحاظ سے کچھ اس طرح ہے جیسے کار کے تین پہیوں کے ساتھ روسی ٹریکٹر کا پچھلا پہیہ لگا ہوا ہو اس لئیے جغرافیائی و انتظامی اور آبادی کے لحاظ سے پنجاب کی تقسیم اب انتہائی ضروری ہے ۔

آفتاب نواز مستوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غلام حسین خان مشوری بگٹی

کوہ سلیمان کے دامن میں انگریزی سامراج کے خلاف جہاد کا علمبردار

سرائیکی وسیب کی تاریخ صرف بادشاہوں اور سرداروں کی نہیں، بلکہ ان گمنام مجاہدوں کی قربانیوں سے بھی لکھی گئی ہے جنہوں نے اپنی غیرت پر آنچ نہیں آنے دی۔ انہی جانبازوں میں غلام حسین خان مشوری بگٹی کا نام سرفہرست ہے، جنہوں نے 1860 کی دہائی میں ڈیرہ غازی خان اور کوہ سلیمان کے قبائلی پٹی میں انگریزی سامراج کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا۔

1. پس منظر
انگریز نے پنجاب کے الحاق کے بعد "فارورڈ پالیسی” کے تحت کوہ سلیمان کے قبائل کو قابو کرنے کے لیے سرداروں کو خریدنا، ایک کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا اور تمن داری کے نظام کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ڈیرہ غازی خان گزیٹئر اور مقامی روایات کے مطابق مشوری خان نے دیکھا کہ انگریز روایتی خودمختاری ختم کر کے قبائل کو غلام بنانا چاہتا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے مزاحمت کا فیصلہ کیا۔

2. مزاحمت اور اندرونی غداری
غلام حسین مشوری نے بگٹی قبیلے کو متحد کر کے انگریز کے ایجنٹوں اور حلیف سرداروں کا مقابلہ کیا۔ مگر انگریز کی سب سے بڑی کامیابی اندرونی غداری تھی۔ مشوری قبیلے ہی کے غلام مرتضےٰ مشوری بگٹی انگریز سے ملا ہوا تھا اور غلام حسین مشوری کے ہر حملے کی مخبری تحصیل جام پور کے انگریز انچارج آفیسر بروس کو کر دیتا تھا۔ اس مخبری کی وجہ سے مشوری خان کی کئی حکمتِ عملیاں ناکام ہوئیں اور انگریز بروقت اپنی فوجیں منتقل کر لیتا تھا۔

1865ء میں جب مشوری خان نے درہ کالا کھوسڑا اور ہڑند کے راستے فوجی چھاؤنیاں قائم کرنے کی کوشش کے خلاف حملہ کیا تو دربار سخی بور بخش کے خلیفہ نے خطرے کا نغارہ بجایا۔ اس سے انگریز اور اس کے اتحادی چوکنا ہو گئے اور غلام حسین مشوری کو پسپا ہونا پڑا۔
3. حتمی معرکہ اور شہادت*
محقق مورخ حاجی عاشق حسین ڈراجہ کے مطابق، ایک مبینہ روایت یہ بھی ہے کہ غلام حسین مشوری انگریز سے مراعات اور تمن داری چاہتا تھا، جو انگریز نے نہ دیں تو وہ باغی ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گورچانی قبیلہ انگریز کا ناپسندیدہ تھا، مگر غلام حسین مشوری کو قابو کرنے کے لیے انگریز نے گورچانیوں کو مراعات دیں اور بی ایم پی میں رسالداری دی۔ اسی طرح انگریزی سرکار نے لنڈ اور لغاری قبیلے کو بھی غلام حسین مشوری کے خلاف مشترکہ محاذ بنانے کا کہا۔ چنانچہ ان تین قبائل نے انگریز کے ساتھ مل کر غلام حسین مشوری کا مقابلہ کیا۔
جب وہ پہلی مرتبہ درہ کالا کھوسڑا سے ٹھل علی محمد کے راستے ہڑند پر حملہ آور ہونے کے لیے داخل ہوا تو دربار سخی بور بخش کے خلیفہ نے "نغارے” بجا دیے۔ یہ نغارے جن کی آواز دور تک سنائی دیتی تھی، خطرے کے وقت بجائے جاتے تھے۔ اس پر انگریز فوجی اور اس کے اتحادی چوکنا ہو گئے اور غلام حسین مشوری کو پسپا ہونا پڑا۔

دوسری مرتبہ جب غلام حسین مشوری اپنے جتھے کے ساتھ دوبارہ ہڑند پر حملہ آور ہونے کیلیئے آیا تو غلام مرتضے ا مشوری بگٹی نے انگریزوں کو مخبری کردی جس کی بنیاد پر انہوں نے غلام حسین مشوری سے ٹکرانے کیلیئے مقامی اتحادی سرداروں کو آگے کردیا اور اپنے فوجی محفوظ کر لئیے غلام حسین مشوری کالا کھوسڑا کے راستے سے آیا تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ سخی بور بخش کے خلیفہ کو باندھ دیا۔ مگر روایت ہے کہ نغارے خود بخود فضا میں بلند ہو کر بجنے لگے اور اتحادی قبائل کے جنگجو دستوں نے چوکنا ہوکر قلعہ ہڑند کو اپنے حصار میں لے لیا جبکہ غلام حسین مشوری کے سواروں نے ٹھل علی محمد میں ڈیڑھ کلو میٹر تک آگ لگا کر بربادی پھیلا دی۔اور گورچانیوں کے مال مویشی بھی اپنی تحویل میں لے لئیے مگر جونہی غلام حسین مشوری نے قلعہ ہڑند کی جانب پیش قدمی کی، آگے لنڈ کھڑے تھے جنہیں گورچانیوں اور لغاریوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ انہوں نے غلام حسین کے ساتھ شدید مقابلہ کیا اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔وہی کٹا ہوا سر اتحادی سرداروں نے جام پور آ کر انگریز آفیسر "مسٹربروس” کو بطور گفٹ پیش کیا، جس کے بدلے میں سب کو انعامات، مراعات اور بی ایم پی میں ملازمتوں سے نوازا گیا۔


حاجی عاشق حسین ڈراجہ کا یہ کہنا بھی ہے کہ بی ایم پی میں "بازگیر” قبیلے کو بھی 20 چھوٹی نوکریاں دی گئیں، جو کہ تمن دار قبیلہ نہیں تھا۔ مگر محققین کا قوی شک ہے کہ سرداروں، تمن داروں نے غلام حسین مشوری کا سر کاٹنے کے لیے اسی قبیلے کے نوجوانوں کو آگے کیا ہوگا، (کیونکہ بی ایم پی کی نوکریاں صرف تمن دار خاندانوں کے لیے ہوتی تھیں، جبکہ بازگیر تمن دار نہیں تھے۔ ان 20 نوکریوں کے بعد آج تک بی ایم پی میں بازگیروں کو پھر کوئی ملازمت نہیں ملی۔)
انگریز آفیسر” مسٹر بروس” کے حکم پر غلام حسین مشوری کا سر جام پور کے تاریخی قبرستان "ٹھاکریوالہ” میں دفن کر دیا گیا اور اس کے 300 سپاہیوں کو قید کی سزا ہوئی۔ 9 ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد مشوری بگٹی قبیلہ اور انگریزی سرکار کے مابین صلح ہو گئی۔ غلام حسین مشوری کے لواحقین اس کا سر یہاں سے نکال کر لے گئے اور اپنے علاقے میں اس کے دھڑ کے ساتھ دفن کر دیا۔

 

4. تاریخی اہمیت
غلام حسین خان مشورہ کی جدوجہد صرف ذاتی بغاوت نہیں تھی، بلکہ سرائیکی وسیب کی خودمختاری کی جنگ تھی۔ عبدالقادر احمدانی اور مقامی تاریخ دانوں کے مطابق، ان کی شہادت کے بعد بھی کوہ سلیمان کے قبائل نے انگریز کی مکمل گرفت قبول نہیں کی۔ غداری کے باوجود مشوری خان کا نام آج بھی غیرت، بہادری اور مزاحمت کی علامت ہے۔

آج اگر وسیب کے لوگ کسی حد تک آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، تو ہم سب کو ان شہیدوں کو یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے اپنے خون سے اس مٹی کی حرمت بچائی۔ غلام حسین خان مشوری بگٹی کی قربانی وسیب کو یاد دلاتی رہے گی کہ قومیں تب زندہ رہتی ہیں جب ان کے بیٹے سامراجی قوتوں کے خلاف سینہ سپر ہو جاتے ہیں اور موت سے نہیں ڈرتے۔

حوالہ جات:
1. ڈیرہ غازی خان گزیٹئر 1893-97، ص 72، پیرا 202۔
2. عبدالقادر خان احمدانی (لغاری)، تاریخ ڈیرہ غازی خان، حصہ دوم، باب 6، ص 134-142۔
3. Hafiz Muhammad Fiaz et al. "Socio-Political Impacts of Feudalism on Saraiki Dera Ghazi Khan”, IRJMSS 2021، ص 37-38۔
4. حاجی عاشق حسین ڈراجہ، روایت و تحقیق۔
5. P.J. Bruce. Forward Policy: Its Result, p. 18۔
6. سرائیکی وکیپیڈیا: "غلام حسین مشوری”۔

آفتاب نواز مستوئی کی مزید تحریریں پڑھیں

About The Author