مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے پاکستان میں لسانی اور ثقافتی حقوق کے موضوع پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں زبانوں سے متعلق قومی کمیشن کے قیام اور آئین کے آرٹیکل 251 میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈیجیٹل مردم شماری میں شفافیت پر زوردینے کا مطالبہ کیا گیا ۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں مقررین نے ریاست کی طرف سے لسانی قومیتوں کی محرومی، شناخت نہ ہونے اور بے حسی پر تنقید کی جبکہ کانفرنس کے مقررین نے مقامی زبانوں کی ترویج و ترقی کے لئے قومی کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا
مقررین کا کہنا تھ اکہ مقامی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کے لئے آئین میں ترمیم کی جائے جبکہ بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبانوں میں دی جائے ، ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری منصفانہ اور شفاف طریقے سے کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا
اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ ریاست کی جانب سے لسانی اکائیوں کو تسلیم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ سرائیکی زبان کا قومی سطح پر تسلیم کیا جانااور مردم شماری میں شمولیت زبان کی فعالیت کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے
سرائیکی دانشور ڈاکٹر احسن واگھا نے کہا کہ زبانوں کو ترک نہیں کیا جاسکتا،ایک مستقل لینگویج کمیشن قائم کیا جائے اور اسے ملک کی تمام زبانوں کو ترقی دینے کا کام سونپا جائے
بلوچ دانشور پروفیسر واحد بخش بزدار، ایڈووکیٹ صلاح الدین مینگل، اے این پی کے سینیٹر حاجی ہدایت اللہ،سرائیکی دانشورمظہر نواز خان، سندھی دانشور جامی چانڈیو ، ارشاد لغاری، اور اسد جوتہ نے بھی خطاب کیا ۔
اے وی پڑھو
ریاض ہاشمی دی یاد اچ کٹھ: استاد محمود نظامی دے سرائیکی موومنٹ بارے وچار
خواجہ فرید تے قبضہ گیریں دا حملہ||ڈاکٹر جاوید چانڈیو
راجدھانی دی کہانی:پی ٹی آئی دے کتنے دھڑےتے کیڑھا عمران خان کو جیل توں باہر نی آون ڈیندا؟