مارچ 2, 2021

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

سرائیکی قومی شناخت اور ’’ونڈ‘‘ تے ’’ٹوٹے‘‘۔۔۔اسلم ملک

ایک ہی زبان مان بھی لی جائے تو کون سا اخلاقی، سماجی، قانونی اصول پابند کرتا ہے کہ سب ہمیشہ دادا کے گھر میں رہیں. کوئی رہ رہا ہے؟
اسلم ملک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برادرم فرخ سہیل گوئندی نے بجا فرمایا کہ بلوچستان صوبہ بن گیا ہے تو وہاں کے مسائل کون سے حل ہوگئے ہیں. اور یہ کہ سب کچھ طبقاتی بنیاد پر ہونا چاہئیے.
لیکن افسوس کہ ہمارا کوئی بھی صوبہ بلکہ ملک بھی طبقاتی بنیاد پر نہیں بنا. جہاں اور جیسے ہیں، انہی پر اکتفا کرنا پڑے گا.
"ونڈ” تے "ٹوٹے” نامنظور، گوئندی صاحب نے نیک نیتی سے ہی کہا ہوگا کہ وہ کون سے تخت لاہور کے حصہ دار ہیں. لیکن ان کی پنجابیت کی تسکین اس سے بھی تو ہوسکتی ہے کہ جیسے عرب فخر کرتے ہیں کہ ان کے 22 ملک ہیں. ایسے ہی وہ پنجابیوں کے چار پانچ صوبے ہونے پر بھی فخر کرسکتے ہیں.
رہا یہ سوال کہ سرائیکی کوئی زبان ہے یا نہیں…. فرخ سہیل صاحب اتنے ڈیموکریٹ ہیں کہ اپنے ادارے کا نام بھی جمہوری پبلیکیشنز رکھا ہے. جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کے کسی گروہ کو خود کوئی نام یا شناخت دینے( بلکہ مسلط کرنے) کی بجائے خود ان سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ کون ہیں، خود کو کیا کہلوانا پسند کرتے ہیں.
فرخ سہیل صاحب نے فرمایا، سندھ، بلوچستان اور پختونخوا میں سرائیکی بولنے والے اپنے صوبے کا مطالبہ کرکے دکھائیں.
تو عرض ہے کہ سندھ میں سرائیکی کسی ایک علاقے میں محدود نہیں، بیشتر ضلعوں میں ان کی آبادی ہے. بلوچستان کے پانچ چھ ضلعوں میں سرائیکی بولی جاتی ہے. پختونخوا میں جنوبی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خاں وغیرہ میں سرائیکی آبادی ہے. وہ علاقے پنجاب کے سرائیکی علاقے سے ملحق ہیں اور تاریخی طور پر ڈیرہ جات ایک خطہ رہے ہیں، وہاں سرائیکی صوبے کا حصہ بننے کی پاپولر ڈیمانڈ موجود ہے.
ان تینوں صوبوں میں سرائیکی شناخت تسلیم کی جاتی ہے. کوئی انہیں خود کو پنجابی کہنے پر مجبور کرتا ہے نہ کوئی اور شناخت مسلط کرتا ہے.
سندھ کے خیرپور، پختونخوا کے ڈیرہ ریڈیو سٹیشنوں سے سرائیکی نشریات بھی ہوتی ہیں. پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ نے سرائیکی کی پہلی کتاب تیار کرلی تھی. شاید اب تک تدریس بھی شروع ہوچکی ہو. صوبے کی کسی جوبلی پر صوبائی حکومت نے مشاعرے کرائے، اردو، پشتو اور سرائیکی کے الگ الگ. بلوچستان حکومت کے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا فیلڈ میں کام کیلئے ملازمتوں کا ایک اشتہار دیکھا. اس میں درج تھا کہ فلاں فلاں اضلاع کیلئے سرائیکی بول سکنے والوں کو ترجیح دی جائے گی.
یعنی ان تینوں صوبوں میں سرائیکی زبان اور شناخت تسلیم کی جاتی ہے. اعتراض ہے تو اس صوبے میں جہاں ان کی کروڑوں کی آبادی ہے.
لاہور میں بیٹھ کر لنگوسٹک اکیڈمک بحث کا شاید سب کیلئے قابل قبول کوئی نتیجہ نہ نکلے، لیکن بہاولپور، رحیم یارخاں،ڈیرہ غازی خاں، ملتان کے کسی بھی محلے میں کوئی بھی دس بارہ سالہ بچہ آپ کا مسئلہ حل کرسکتا ہے. اس سے پوچھیں، اس گلی میں کون کون سے سرائیکی گھر ہیں اور کون سے پنجابی؟ وہ ایک لمحہ سوچے بغیر آپ کو بتادے گا.
اس بچے اور بلوچستان کے کسی نیم خواندہ شخص کو جتنی سمجھ ہے، وہ لاہور کے پروفیسروں کو کیوں نہیں؟
نہیں، لاہور کی ایک پروفیسر بھی اس بارے میں کلئیر ہیں. پروفیسر مسرت کلانچوی بتاتی ہیں کہ ان کا ددھیال پنجابی ہے اور ننھیال سرائیکی. ظاہر ہے انہیں دونوں عزیز ہیں.
ایک ہی زبان مان بھی لی جائے تو کون سا اخلاقی، سماجی، قانونی اصول پابند کرتا ہے کہ سب ہمیشہ دادا کے گھر میں رہیں. کوئی رہ رہا ہے؟
گوئندی صاحب نے لغاری، مزاری، گیلانی، مخدوموں کی لاہور اور اسلام آباد پر حکومتوں والا طعنہ بھی دہرایا ہے. تو برادر عزیز، یہ تو موقع ہے کہ وسطی شمالی پنجاب ان سے نجات حاصل کرلے. جنوبی پنجاب والے اپنی بلائیں خود بھگتتے رہیں.
بہر حال یہ معاملہ شاونزم کی بجائے جمہوری نقطہ نظر سے دیکھنے کا تقاضا کرتا ہے. ماسٹر تارا سنگھ جیسے نعروں سے گریز ہی بہتر ہوگا.
جس علاقے کو معاملہ ہو، اسی کے لوگوں کی رائے کا احترام کرنا چاہئیے، دنیا بھر میں بالعموم انہی کی اکثریتی رائے نے ہی prevail کیا ہے.

 

یہ بھی پڑھیے:

%d bloggers like this: