ہم نے آئین کے گرد اٹھارہویں ترمیم کی مضبوط حفاظتی دیوار تعمیر کر دی ہے، آصف زرداری

یہ بات انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں کرائی گئی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اسلام آباد: سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے آئین کے گرد اٹھارہویں ترمیم کی مضبوط حفاظتی دیوار تعمیر کر دی ہے اور اب کوئی بھی آئین کو گزند نہیں پہنچا سکتا۔

یہ بات انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں کرائی گئی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے اس کانفرنس کے منتظمین اور شرکاءکو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اے پی سی کی کامیابی ہی یہی ہے کہ حکومت اس اے پی سی کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ ہمیں عوام کے لئے آواز اٹھانے کے لئے پیمرا کی ضرورت نہیں کیونکہ عوام ہمیں سن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہماری تقریروں پر ٹیلی وژن پر پابندی لگا سکتی ہے لیکن یہ وہ دور ہے کہ بلوچستان اور گلگت بلتستان جیسے دور دراز علاقوں سے بھی بچے اپنی آواز سوشل میڈیا پر اٹھا رہے ہیں۔ اس حکومت کو یہ ادراک نہیں کہ اب میڈیا پر پابندیاں لگانا ناممکن ہوگیا ہے۔

آصف علی زرداری نے نواز شریف کی صحت کے لئے دعا کرتے ہوئے مریم نواز کو اے پی سی میں خوش آمدید کہا اور کہا کہ مریم نے بھی اسی طرح تکالیف برداشت کی ہیں اور جیل گئی ہیں جیسا کہ ہماری شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کی ہمشیرہ بھی جیل جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بونے اور سلیکٹڈ آئین کی عزت نہیں کرتے لیکن اس آئین کو بہت دور اندیش اور قابل لوگوں نے بنایا تھا اوراٹھارہویں ترمیم نے 1973ءکے آئین کو بحال کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ اس تقریب اور اس اے پی سی کے بعد وہ پہلے شخص ہوں گے جنہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

صدر زرداری نے کہا کہ ہم اس حکومت کو گھر بھیجیں گے اور جمہوریت بحال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس جعلی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اس وزیراعظم کو سلیکٹڈ وزیراعظم کہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گذشتہ دو سالوں میں جمہوریت کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن ایسا نہیں لگتا کہ حکومت جمہوری ادارے بحال کرے گی۔ انہوں نے اے پی سی کے شرکاءسے کہا کہ وہ ایک ایسا لائحہ عمل بنائیں جس سے ملک میں حقیقی جمہوریت قائم کی جا سکے کیونکہ ممالک کی پہلی بنیاد جمہوریت ہوتی ہے اور خوشحالی اس کے بعد آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی ہر قوم چاہے بلوچ یا پنجابی، پختون ہو یا جنوبی پنجابی یا سندھی سب کی آواز پاکستان کے فریم ورک میں بلند کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سارے پاکستان کو لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ ہم یہاں صرف اس لئے جمع نہیں ہوئے کہ اس حکومت کو گرائیں گے بلکہ ہم اس حکومت کو گرا کر حقیقی جمہوریت قائم کریں گے۔ ہم نے پاکستان کو بچانا ہے اور فیض احمد فیض کے الفاظ میں "ہم جیتیں گے”۔

%d bloggers like this: