بھارت میں دلچسپ لطیفہ یہ ہوا کہ شہریت کا نیا قانون بنوانے والے گجرات کے قصائی اور ہندوتوا کے علمبردار وزیراعظم نریندر مودی خود اپنی بھارتی شہریت کا ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔
”رائٹ ٹو انفارمیشن“ کے قانون کے تحت دائر کی گئی ایک شہری کی درخواست پر وزیراعظم آفس کی طرف سے دیئے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ
”وزیراعظم نریندرمودی شہریت ایکٹ1955ءکے سیکشن 3کے تحت پیدائشی بھارتی شہری ہیں لیکن ان کی شہریت کے ثبوت کے طور پر جو سرٹیفکیشن رجسڑیشن درکار ہے وہ موجود نہیں“
درخواست گزار سبھاونکر سرکار نے وزیراعظم مودی کے دفتر سے دئیے گئے جواب کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس وزیراعظم کے پاس اپنی شہریت کا ثبوت موجود نہیں وہ ہم سے کس حیثیت میں شہریت کا ثبوت مانگ رہا ہے۔
مودی کے شہریتی سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی کا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب انتہا پسند آر ایس ایس اور اس کی پشت پناہ پولیس کی وجہ سے دہلی جل رہا ہے۔ پچھلے چند دنوں کے دوران صرف دہلی میں آر ایس ایس اور پولیس تشدد سے 50سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ پچھلے تین ماہ کے دوران شہریت کے نئے قوانین کےخلاف احتجاج کرنے والوں پر مختلف ریاستوں میں انتہا پسندوں اور پولیس کے حملوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 83ہوگئی ہے۔
دہلی پولیس صوبائی حکومت کی بجائے چونکہ مرکزی حکومت کی ماتحت ہے اس لئے فرائض کی ادائیگی کی بجائے اس نے آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم کا کردار ادا کیا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
سیکولر بھارتی آئین کو روندتی بی جے پی حکومت کے وزیرداخلہ امیت شاہ کی قیادت میں اتوار کو کلکتہ میں شہری قوانین کے حق میں نکلنے والی بی جے پی کی ریلی میں ”غداروں“ کو گولی مارو، گولی مارو کے نعرے لگتے رہے، کلکتہ میں ہی عین اس وقت جب امیت شاہ ریلی نکالے ہوئے تھے دوسری طرف شہریت قوانین کے مخالفین بھی ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر تھے اور مودی سرکار کےخلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔
مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے اپنی ریلی کے اختتام پر خطاب کے دوران بنگال کی وزیراعلیٰ سمیت دیگر سیاسی مخالفین پر سنگین الزامات عائد کئے۔ جواباً انہیں بھی کھری کھری سنائی گئیں۔
شہریت کے نئے قوانین کے نفاذ کے بعد بھارت کے طول وعرض میں حکومت مخالف تحریک کی قیادت کرنے والے طلباءرہنماوں اور دیگر شہریوں کےخلاف غداری اور دوسرے سنگین الزامات کے تحت 311 مقدمات درج ہوئے، ان میں سے صرف 57مقدمات دہلی میں درج کرائے گئے، غورطلب امر یہ ہے کہ غداری اور دیگر سنگین الزامات کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں 70فیصد مدعی بھارتی جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے رہنماءہیں، صرف 15مقدمات پولیس نے اپنی مدعیت میں درج کئے جبکہ باقی مقدمات بظاہر مقامی ہنگاموں کے پس منظر میں درج کئے گئے لیکن ان میں غداری کے الزامات کی دفعات بھی شامل ہیں۔
ہفتہ کو بھارت کی مرکزی کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے طالب علم رہنما کنہیا کماری کےخلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی باقاعدہ منظوری دےدی۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ غداری اور دیگر سنگین الزامات کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں بعض متاثرہ مسلمان اور دلت خاندانوں کے 11سے16 سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔
عددی برتری کےساتھ دوسری بار مرکز میں اقتدار سنبھالنے والی بی جے پی حکومت اپنے بنائے گئے قوانین کے دفاع کےلئے آر ایس ایس کو میدان میں اُتار چکی اور مختلف ریاستوں میں صاف دکھائی دیا کہ پولیس اور دوسرے ادارے آر ایس ایس کے ماتحت کے طور پر کام کررہے ہیں۔
حکومت پولیس اور آر ایس ایس کے اس ”مثالی“ اتحاد کےخلاف احتجاج کرنے والوں میں پیش پیش نوجوان طلباءوطالبات اور خواتین ہیں۔
بھارتی صحافی شیام ماترے کہتے ہیں
”مودی حکومت اور خصوصاً امیت شاہ اس بات سے پریشان ہیں کہ خود ہندووں کی نئی نسل احتجاج کرنے والے مسلمانوں کےساتھ کھڑی ہے“
شیام ماترے نے اگلے دن کلکتہ میں ایک ہندو طالبہ سے دریافت کیا۔ آپ شہریت کے نئے قوانین کےخلاف احتجاج کیوں کر رہی ہیں؟ آپ تو ہندو ہیں۔
سنگیتا راوت نامی قانون کی طالبہ کا جواب تھا
”میں مسلمانوں کےساتھ نہیں ہندوستان کےساتھ کھڑی ہوں، اس ہندوستان کے جس کا آئین شہری ومذہبی آزادیوں کا ضامن ہے اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر اپنے شہری سے امتیاز نہیں کرتا“۔
بھارت میں نئے شہری قوانین کے نفاذ سے پیداشدہ صورتحال پر ہمارے یہاں دو قومی نظریہ کا لنگر تقسیم کرنے والے کونے کھدروں سے نکل کر دندناتے پھر رہے ہیں۔ کچھ بہت زیادہ سیانے مرحوم مولانا ابوالکلام آزاد کے لتے لے رہے ہیں
لیکن وہ اس بات پر غور کرنے کو تیار نہیں کہ شہریت کے نئے قوانین کےخلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کےساتھ پچھلے تین ماہ سے ڈٹ کر کون کھڑا ہے۔
خود ہندووں کی نئی نسل۔
دہلی میں پچھلے چند دنوں کے دوران آر ایس ایس اور پولیس گردی سے جو المناک واقعات رونما ہوئے ان پر خون کے آنسو روتے ہوئے مسلمان بھی کھلے دل سے اپنے ہندو پڑوسیوں کی تعریف کرتے رہے جنہوں نے انہیں آر ایس ایس کے بلوائیوں سے محفوظ رکھنے کےلئے اپنی زندگیاں اور گھر بار داو پر لگا دیئے۔
حالیہ واقعات میں دو ہندو نوجوان صرف اس جرم میں قتل کر دیئے گئے کہ انہوں نے اپنے مسلمان پڑوسیوں کی مدد کی،
مسلمانوں کی مدد کرتے ہوئے شرپسندوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے ایک ہندو نوجوان کا کہنا تھا
”اس نے ایک بھارتی ناگری (شہری) کے طور پر اپنا وہ فرض ادا کیا جو بھارتی آئین نے اسے بتایا“
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آر ایس ایس اور پولیس کی غنڈہ گردی سے رونما ہونے والے بعض افسوسناک واقعات ہندو مسلم فسادات ہرگز نہیں تھے کیونکہ بدترین ماحول میں ہندووں نے اپنے مسلمان پڑوسیوں کی جس طرح مدد کی، اس جذبہ نے مودی سرکار اور آر ایس ایس کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔
ان حالات کے باوجود بھی گو مودی سرکار فتنوں کو پروان چڑھانے پر ڈٹی ہوئی ہے مگر بھارت میں اپنے آئین کے سیکولر تشخص کو بچانے والوں کی اب بھی کمی نہیں ہے۔
اے وی پڑھو
ملتان کا بازارِ حسن: ایک بھولا بسرا منظر نامہ||سجاد جہانیہ
اسلم انصاری :ہک ہمہ دان عالم تے شاعر||رانا محبوب اختر
سرائیکی وسیب کے شہر لیہ میں نایاب آوازوں کا ذخیرہ