اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ مریم نواز اسپتال میں رہ کر والد کی عیادت کرسکتی ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار اور متعلقہ حکام کو ہدایت کردی ہے ۔
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق نے کہا ہے کہ آج رات ہی شاید مریم نواز کو والد کے پاس منتقل کردیا جائے۔ وزیراعظم نے وزیر اعلی پنجاب کو اس سلسلے میں اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
مریم نواز کی واپس جیل منتقلی پر ن لیگ کی جانب سے رد عمل میں کہا گیا ہے کہ حکومت بیماری پر سیاست کر رہی ہے، مریم نواز کے کچھ ٹیسٹ باقی تھے لیکن علاج روک کر انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ ناساز طبیعت کے باوجود مریم نواز کی صبح پانچ بجے جیل واپسی تشویش ناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیل واپسی کے وقت بھی ان کی طبیعت خراب تھی، ہائی بلڈپریشراور دل کی دھڑکن نارمل نہیں تھی۔ ڈاکٹرز نے ٹیسٹس کے بعد مریم نواز کو اسپتال داخل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز شریف کی طبیعت چند دن سے ناساز ہے اور ان کے طبی تجزیے کی رپورٹس ان کے بچوں اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو فراہم نہیں کی جارہی تھیں۔
پارٹی کی ترجمان نے کہا کہ مریم نواز شریف کی اس انداز میں جیل واپسی پہلے سے بیمار نواز شریف کو مزید ذہنی اذیت پہنچانے کی ایک اور کوشش ہے۔
اے وی پڑھو
ریاض ہاشمی دی یاد اچ کٹھ: استاد محمود نظامی دے سرائیکی موومنٹ بارے وچار
خواجہ فرید تے قبضہ گیریں دا حملہ||ڈاکٹر جاوید چانڈیو
راجدھانی دی کہانی:پی ٹی آئی دے کتنے دھڑےتے کیڑھا عمران خان کو جیل توں باہر نی آون ڈیندا؟