مارچ 5, 2026

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

رازش لیاقت پوری

سرائیکی صحافی ،شاعر رازش لیاقت پوری دا وچھوڑا

رازش لیاقت پوری اپنی قوم، تہذیب و تمدن، ثقافت اور تاریخ سے گہری وابستگی رکھنے والے تھے۔ وہ پاکستانی زبانوں کے خوبصورت اور مضبوط شاعر سمجھے جاتے تھے۔ بطور ادیب، دانشور، شاعر اور نوجوان نامور صحافی انہوں نے سات کتابیں تصنیف کیں جو سرائیکی ادب، شعور اور مزاحمتی فکر کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

معروف صحافی، مصنف، کالم نگار، سرائیکی شاعر اور دانشور شکیل احمد المعروف رازش لیاقت پوری انتقال کر گئے۔ وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور گزشتہ کچھ عرصے سے زیرِ علاج تھے۔سرائیکی وسیب انکی رحلت پر غمزدہ ہے، ان کے انتقال سے سرائیکی وسیب علمی، ادبی اور صحافتی میدان میں ایک توانا اور بے باک آواز سے محروم ہو گیا ہے۔

رازش لیاقت پوری سرائیکی یونین آف جرنلسٹس کے بانی، سرائیکی سٹوڈنٹس فیڈریشن (2011ء) کے بانی صدر اور بے روزگار سرائیکی طلبہ کے لیے عملی اور مثالی کردار کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ روزنامہ خبریں (ملتان/لاہور)، روزنامہ اوصاف ملتان اور روزنامہ پاکستان ملتان سے وابستہ رہے، جب کہ میڈا عشق سرائیکستان وو جیسے نظریاتی پلیٹ فارمز پر بھی انہوں نے سرائیکی وسیب کی مؤثر ترجمانی کی۔
مرحوم وسیب رنگ کے سرائیکی ادبی صفحات کے آڈیٹر بھی رہے۔

رازش لیاقت پوری اپنی قوم، تہذیب و تمدن، ثقافت اور تاریخ سے گہری وابستگی رکھنے والے تھے۔ وہ پاکستانی زبانوں کے خوبصورت اور مضبوط شاعر سمجھے جاتے تھے۔ بطور ادیب، دانشور، شاعر اور نوجوان نامور صحافی انہوں نے سات کتابیں تصنیف کیں جو سرائیکی ادب، شعور اور مزاحمتی فکر کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

About The Author