فروری 9, 2026

ڈیلی سویل۔۔ زمیں زاد کی خبر

Daily Swail-Native News Narrative

دیپک راگ، ثریا ملتانیکر اور لوح اعزاز کی کہانی||رانا محبوب اختر

ہم نے دیپک راگ، ثریا ملتانیکر کی ممتائیت کی صورت میں مجسم دیکھا ہے۔ یہ حیران کن ماں، بچوں کے لئے دیپ کی طرح جلی ہے اور راگ کا آہنگ، ذمہ داری اور باطنی توازن ان کی ممتا بن گیا ہے۔ دیپک، ممتا کی طرح شدھ ( پاک) راگ ہے۔ ظہور نظر کی غزل کا مطلع دیکھئے:

رانا محبوب اختر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیپک راگ میں دیپک چراغ اور راگ، سنسکرت کا رنجا یا رنگ ہے۔ راگ، وجود کو کیفیات میں رنگنے کا عمل ہے۔ دیپک راگ سے جڑی ہوئی ایک کہانی یہ ہے کہ اکبر اعظم کے ایک رتن تان سین جو مسلمان ہو کر محمد طاوس خاں ہو گئے اور اپنے مرشد محمد غوث گوالیاری کے پہلو میں دفن ہیں، دیپک راگ گانے سے اپنے جسم میں عجب حرارت محسوس کرتے تھے۔ وہ علاج کے لئے نگر نگر پھرتے رہے، مگر ٹھیک نہ ہوئے۔ گجرات کی دو لڑکیاں تانا اور ریری، راگ ملہار گانے کی ماہر تھیں۔ اکبر نے راگ ملہار سے تان سین کے علاج کے لئے تانا اور ریری کو دربار میں بلانے کا حکم بھیجا مگر وہ نہ آئیں کہ انھیں بستی کے کل دیوتا کے سامنے نذر کے طور پر گانا تھا۔ دیپک راگ میں جذبہ، حرارت، ضبط اور روشنی کا عجب ملاپ ہوتا ہے۔ "گیت مالا” کے صفحہ 62 پر عبدالولی عزلت سورتی نے راگوں پر اپنی منظوم کتاب میں دیپک راگ کے بارے میں لکھا ہے:
خدا نے عشق کا شعلہ بنایا
وہی صورت پکڑ دیپک کی آیا
یہ راگ اس عصر میں کوئی جانتا نہیں
کوئی جوں عشق کو پہچانتا نہیں
ہم نے دیپک راگ، ثریا ملتانیکر کی ممتائیت کی صورت میں مجسم دیکھا ہے۔ یہ حیران کن ماں، بچوں کے لئے دیپ کی طرح جلی ہے اور راگ کا آہنگ، ذمہ داری اور باطنی توازن ان کی ممتا بن گیا ہے۔ دیپک، ممتا کی طرح شدھ ( پاک) راگ ہے۔ ظہور نظر کی غزل کا مطلع دیکھئے:
دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں
کوکھ کا درد، دودھ کا نور ، لمس کی بوطیقا، اور لوری میں لپٹی دعائیں، ممتا کے سلگنے اور مہکنے کی کیفیات ہیں۔ ثریّا ملتانیکر، محفل میں گائیک اور گھر میں ممتائیت کا معتبر ترین قرینہ ہیں۔ موسیقی محض فن نہیں، ترتیبِ فکر کا نام ہے؛ اور ممتائیت محض محبت نہیں، ترتیب فکر کی لطیف ترین صورت ہے۔ ثریا ملتانیکر کے گھر میں بچوں نے بولنے سے پہلے سننا سیکھا ہے۔ کہ راگ کی پہلی شرط سماعت ہے۔ عجیب اتفاق کہئے یا فطرت کا معجزہ کہ جس طرح ورن مالا میں سات سُر ہیں۔ ثریا ملتانیکر کے سات بچے ہیں۔ اساطیری گائیک کی آواز، کائنات کی سمفنی سے ہم آہنگ ہو گئی ہے۔
ثریّا، آسمان پر ستاروں کی ترتیب کا نام ہے۔ ثریا، خوشۂ پروین ہے۔ ستاروں کا وہ جھرمٹ، جسے روایت میں سات ستاروں اور “سات بہنوں” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایسا اجتماع جو کثرت میں نظم کا استعارہ اور برج ثور ہے۔ عقدِ ثریّا وہ ہار ہے، جو آسمان نے زمین کی گردن میں ڈال دیا ہے۔ جہاں ہر ستارہ اپنی جگہ روشن ہے مگر سب جمع ہو کر ثریا ہیں۔ وہ نور جو الگ چمکنے کے بجائے ایک ترتیب میں جھلملاتا ہے، اور یہ ترتیب اسے محض آسمانی مظہر نہیں رہنے دیتی بلکہ تہذیبی استعارہ بنا دیتی ہے۔ حقیقت میں وہ درجنوں ہیں، مگر انسانی آنکھ نے جن سات کو دیکھا، وہی تہذیب کا عدد ہیں۔ یہ جھرمٹ کبھی ثریّا، کبھی پروین، کبھی کرتیکا کہلایا ہے۔ شاید یوں آسمان زمین سے کہتا ہے، کہ جو اکٹھا چمکے، وہی یاد رہتا ہے اور جو یاد رہ جائے، وہی تہذیب ہے۔
روشنی کی یہی ترتیب زمین پر چلچراغ ہے۔ ایک مرکز، کئی شاخیں، اور ہر شاخ میں روشنی کی زبان ہے۔ چلچراغ کی خوب صورتی اس میں نہیں کہ کون سی شمع زیادہ روشن ہے، بلکہ اس میں ہے کہ سب شعلے ایک ہی منبع سے جڑے ہیں۔ یہ وحدت میں کثرت کا وہ نقش ہے جو آنکھ اور دل دونوں کو بھاتا ہے۔ نور کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ تقسیم ہو کر کم نہیں ہوتا، با معنی ہو جاتا ہے۔ ملتان کے لسانی حافظے میں سنسکرت کا سوریا مرکزِ نور ہے۔ سوریا صرف ایک فلکی جسم نہیں، بلکہ وقت، حرارت، حرکت، سمت اور زندگی کا استعارہ ہے۔ سوریا سے دن کی پیمائش اور موسموں کی گردش منسلک ہے۔ یہ وہ نور ہے، جو بکھر کر چہروں، گلابوں اور آموں میں رنگ، خوشبو اور مٹھاس بھرتا ہے۔ سوریا، آسمان کی ثریا میں روشنی اور ملتان کی ثریا میں آواز ہے اور آواز روشنی کا مرتعش وجود ہے۔
ملتان، جہاں پرہلادی وحدت کی روایت نے صدیوں تک عبادت اور مرکزیت کو ایک ہی محور پر رکھا، اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ نور یہاں محض آسمانی مظہر نہیں، تہذیبی شعور کی آواز ہے۔ ملتان کی مٹی میں سوریا کا حافظہ ہے؛ ایسا حافظہ جو مذاہب، اساطیر، تاریخ اور ثقافت سے گزرتے ہوئے اپنا رنگ برقرار رکھتا ہے۔ یہاں عبادت کے قرینوں میں مراقبہ، قوالی، کافی اور سنگیت شامل ہیں۔ ملتان میں روشنی دیکھی نہیں، گائی اور سنی جاتی رہی ہے۔ ثریّا آسمان کا چلچراغ اور زمین کی آواز ہے۔ کہ حسن اکیلا نہیں، جمع ہو کر سر کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔ ثریّا میں سات ستارے ہوں یا چلچراغ میں کئی شمعیں، معنی اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب سب اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے ایک ہی دائرے میں روشن ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حسن بکھرتا نہیں، بلکہ جمع ہو کر ثریا ملتانیکر اور راگ ملتانی بنتا ہے۔ سنکیرن اور سمپورن ایک ہوتے ہیں۔
ثریا ملتانیکر سے بہتر کون جانتا ہے کہ ضبط اور توازن سے خالی آواز چیخ ہوتی ہے۔ اور ترتیب و تخلیق سے خالی آگ بھسم کر دیتی ہے۔ اسی لیے ان کی ممتائیت کے میزان نے خاندان کی سندرتا کو موسیقی کا آہنگ دیا ہے۔ انھوں نے بچوں کے باطن کو سنوارا ہے کہ ان کے ہاں تال محض گانے کے لیے نہیں، زندگی کو توازن پر قائم رکھنے کے لئے ہے۔ علامہ اقبال کی عظیم نظم، "مسجدِ قرطبہ” کے ایک شعر سے ثریا کا نیا تناظر بنتا ہے:
عقل کی منزل ہے وہ، عشق کا حاصل ہے وہ
حلقۂ آفاق میں گرمیِ محفل ہے وہ
موسیقی کی دنیا میں محفل اور بیٹھک ہم معنی ہیں، وہ جگہ جہاں موسیقی اور رقص ہوتا ہے۔ اشوک دا رنادے ” ہندوستانی کلاسیکل میوزک” کے صفحہ 3 پر لکھتے ہیں:
” It is significant that the sufis describe the world as a mehfil.”
یوں ہے کہ شیکسپئیر نے دنیا کو ایک سٹیج کہا ہے؛ جب کہ صوفیوں کے لئے دنیا ایک محفل ہے۔ راگ اور رنگ کی محفل جہاں ہر وقت ساز بجتے ہیں۔ خواجہ غلام فرید عجب گیانی ہیں جنھوں نے اپنی ایک ہندی کافی میں آسمان کو باجے کے منہ کے طور پر visualize کیا ہے اور دنیا کو ایک ایسی جگہ کے طور پر جہاں چوراسی لاکھ ساج بجتے ہیں۔
آفاقی تناظر میں ماں ہونا محض جسمانی یا حیاتیاتی حقیقت نہیں، اخلاقی منصب ہے۔ وہ مقام جہاں عورت صرف جنم نہیں دیتی بلکہ سماج کے ظلم، عورت دشمنی، تعصب اور خوف کے بیچ اولاد کی زندگی کی سمت بھی متعین کرتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ممتائیت دیپک راگ کی حدت کو ممتائیت کے ملہار سے کومل بناتی ہے۔ ایسا راگ جو حیات بخش حرارت دیتا ہے مگر جلاتا نہیں، اور اگر یہ راگ میزان سے ہٹ جائے تو خود گائیک کو راکھ کر دیتا ہے۔
پاکستانی جاگیردارانہ سماج میں آرٹسٹ عورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ بل کی عورت ہونا آگ سے گزرنا ہے۔ عورت کیا، خود جاگیردار مرد، کن رس، موسیقی کا رسیا، ڈرائنگ روم کا گویا یا میوزک کا دقیقہ شناس تو ہو سکتا ہے، مگر اس کے لئے گویا بننا معیوب ہے۔ کیونکہ گائیکی کسب سے کمال پاتی ہے اور جاگیردار کے لیے محنت کرنا عیب ہے۔ نکمّا ہونا، وراثتی زمین کا مالک ہونا، اور محنت سے بے نیاز رہنا رجعتی جاگیردار سماج میں عزت کی سند ہے۔ دوہرے معیار والا یہ سماج گائیک ثریا ملتانیکر کو آنکھوں پر بٹھاتا ہے، مگر ان کے وقار پر سوال اٹھاتا ہے۔ ان کی آواز کو سراہتا ہے، مگر ان کی پہچان سے ڈرتا ہے۔ کہ عورت اگر اپنی آواز پہچان لے تو اطاعت کے سارے سانچے ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسے رجعت پسند اور متعصبانہ رویوں کی قیمت ایک حد تک اولاد بھی ادا کرتی ہے۔ مادام کی پانچوں بیٹیاں باوقار، خودمختار اور کامیاب ہیں، مگر تین نے شادی کے بندھن سے دور رہنے کو ترجیح دی ہے۔ یہ ناکامی نہیں، اخلاقی مزاحمت ہے؛ ایک ایسا راستہ جو ممتائیت کے سائے میں پروان چڑھا، جہاں ماں نے بیٹیوں کو اندھی اطاعت نہیں، خود شناسی سکھائی ہے۔ یہ شعور کہ عورت کا وجود کسی رشتے کی منظوری کا محتاج نہیں، اور عزت سماج کی مہربانی، خاندان کی مرضی یا مرد کی سرپرستی سے نہیں بلکہ اپنی ذات کے یقین سے جنم لیتی ہے۔ یہ وہ نسائی شعور ہے جو نعروں سے ماورا ہے۔ یہ وہ تریمتائیت یا feminism ہے، جو جلوس نکالنے کی بجائے نسلوں کی سمت بدل دیتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ثریا ملتانیکر کی کہانی میکسم گورکی کے ناول "Mother” کی ہیروئن نیلوونا سے ملتی ہے۔ نیلوونا ابتدا میں خوف کی پروردہ تھی، ایک خاموش اور ڈری ہوئی ماں جو دنیا کی سختی سے بچنے کے لیے سر جھکا کر چلتی تھی۔ مگر جب اس کا بیٹا پاول سچ کے لیے کھڑا ہوا تو ممتائیت نے اس کے اندر ایک نئی آگ روشن کر دی۔ نیلوونا نے نظریہ نہیں پڑھا تھا، محبت سے شعور پایا تھا؛ اس نے خوف کی سرحد پار کی اور اخلاقی جرات کی علامت بن گئی۔ ثریا ملتانیکر کی ممتائیت بھی نسوانی بیداری کی ایک صورت ہے۔ یہاں ایک پاول کی جگہ سات بچے ہیں۔ ثریا ملتانیکر کی ممتائیت نے ایک رسان سے آہستہ آہستہ ضمیر کی تربیت کی ہے۔ ممتائیت کی طاقت کو حکم نہیں بل کہ وقار سکھایا ہے، اور اطاعت کے بجائے اختیار کی اخلاقیات تخلیق کی ہے۔ یوں ماں نے اولاد کو صرف دنیا کے لیے تیار نہیں کیا، بلکہ دنیا کو ایسے انسان دینے کا حوصلہ کیا ہے جو سوال کر سکیں، انکار کر سکیں، اور اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق جی سکیں۔ ممتائیت جو دیپک راگ ہے۔ ایسا دیپ جو جلنے اور جلانے سے ماورا سماجی اندھیرے میں زندگی کو روشنی کی اخلاقیات سکھاتا ہے۔ وہ تریمتائیت جو چیخ نہیں، روشنی کا منبع اور ثریا صفت ہے۔ دیپک راگی ممتائیت، جب ضبط، حرارت ، یقین اور عشق کے آہنگ سے جُڑتی ہے، تو ماں محض پرورش کرنے والی نہیں، حلقۂ آفاق کی گرمیِ محفل ہوتی ہے۔ میکسم گورکی نے "ماں” میں ایک انقلابی مگر انسانی لہجے میں بتایا ہے کہ ماں صرف جنم دینے والی نہیں، ضمیر جگانے والی قوت ہوتی ہے۔ وہ خاموشی سے دکھ سہتی ہے مگر اولاد کو خوف سے آزادی کی طرف لے جاتی ہے۔ ثریا ملتانیکر میں ممتائیت خود جلتی ہے مگر آنے والی نسلوں کو تہمت کی ثقافت سے تمکنت کے جہان میں لے جاتی ہے۔
ثریا ملتانیکر کی ممتائیت اور میاں عبدا لغنی مرحوم کی باپتا سے ثریا ملتانیکر کا خانوادہ تعمیر ہوا ہے۔ اس خاندان کے ہر فرد نے اپنی اپنی زندگی میں علم، خدمت اور فن کو وقار کے ساتھ برتا ہے۔ یہ بچے محض نام نہیں، ماں کی مدھر آواز اور باپ کی محبت کے پھیلتے ہوئے سُر ہیں۔ کسی میں علم اور مسیحائی ہے، کسی میں خدمت اور سماجی ذمہ داری اور کسی میں فن، جمال کی صورت نمایاں ہو گیا ہے۔
ثریا ملتانیکر کے فرزند ڈاکٹر محمد علی فضل برطانیہ میں آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ ثریا ملتانیکر اپنے مسیحا صفت ڈاکٹر علی کو جب اپنا مددگار بیٹا کہتی ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ 1972ء میں جب علی کے بابا، میاں عبدالغنی فوت ہوئے تو معصوم علی نے اپنی سوگوار ماں کو دلاسا دیتے ہوئے کہا ” تساں نہ رووو، متاں تساں وی مر ونجو۔” یعنی آپ نہ روئیں، کہ کہیں آپ بھی نہ مر جائیں۔ یہ نیک طینت ڈاکٹر اب ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑتا ہے، کہ وہ موسیقی کی نائیک ثریا ملتانیکر اور اس قابل فخر ماں کا بیٹا ہے، جس نے ساری زندگی راگوں کی طرح دلوں کو جوڑا ہے۔ محبت کی سفارت کاری کرنے والی ماں کا بیٹا مسیحائی کے عمل سے جڑا ایسا ہاتھ ہے، جس میں ترتیب، حرکت، شفا، صبر اور ذمہ داری بنیادی اقدار بن گئی ہیں۔ رقیہ سجاد نے گھریلو زندگی کو خاموش وقار اور سلیقہ دیا ہے۔ وہ ثریا ملتانیکر کے کاشانہ درویش کے مقابل رہتی ہیں اور ممتائیت کا وہ تسلسل ہیں جس میں گھر محض رہائش نہیں، سکون، شانتی اور اعتماد کی جگہ ہوتا ہے۔ شائستہ بانو ایک معروف ماہرِ آٹزم اور پِیلو (PEELU) نامی غیر منافع بخش ادارے کی بانی صدر ہیں۔ ان کا پاکستان سینٹر فار فلانتھراپی ایک مستند ادارہ ہے۔ ملتان میں ڈریم چلڈرن ریہیبلیٹیشن اینڈ آٹزم سینٹر کے ذریعے شائستہ بانو اور ان کی ٹیم نے خصوصی بچوں کے لیے امید، نگہداشت اور بحالی کا ایک معتبر نظام قائم کیا ہے۔ یہ خدمت ماں کی ان مترنم لوریوں کا ثمرہ ہے جو صرف سلانے کے لیے نہیں، سنبھالنے کے لیے ہوتی ہے۔
رابعہ غنی گزشتہ دو دہائیوں سے انسانی فلاح اور سماجی ترقی کے میدان میں سرگرمِ عمل ایک ممتاز سوشل سائنٹسٹ اور سینئر کنسلٹنٹ ہیں۔ انہوں نے سیاسیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور مختلف قومی و بین الاقوامی جامعات سے پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے اپنے علمی وژن کو وسعت دی۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت انسانی حقوق، اچھی حکمرانی اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں پر محیط ہے۔ وہ صنفی مساوات، محنت کشوں کے حقوق، نوجوانوں، بچوں اور نسلی و مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ رابعہ غنی نے پاکستان کے دیہی، شہری اور نیم شہری علاقوں میں تحقیق، ایڈوکیسی، استعداد سازی اور شراکت داری کے ذریعے محروم طبقات کے ساتھ براہِ راست کام کیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ سطح کے پیچیدہ منصوبوں کی قیادت کرتے ہوئے قانون و پالیسی کے نفاذ، عوامی مکالمے کے فروغ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ تعلیم اور خاندانی تربیت سے صیقل ہوئی رابعہ غنی، ملتانی تہذیب کے ٹھہراؤ، مٹھاس اور متانت کی تصویر ہیں۔ استاد کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے رمضان علی افضل، شماریات کے ماہر ہیں اور نیوزی لینڈ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اعداد، تجزیہ اور ترتیب سے ان کا رشتہ اسی گھریلو آہنگ کی یاد دلاتا ہے جہاں میزان، تال اور ضبط کو زندگی کا اصول سمجھا جاتا ہے۔ عالیہ بانو اسلام آباد میں وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور انسانی ترقی، جمہوری عمل اور انتخابات کے شعبوں میں بطور محقق اور کنسلٹنٹ قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ فن سے شغف رکھنے والی عالیہ بانو ملتان کی معدوم ہوتی ہوئی روایتوں، خصوصاً نیلے ظروف اور اونٹ کی کھال کے لیمپوں کو نئے ذوق کے ساتھ زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
راحت بانو ملتانیکر اپنی ذات میں موسیقی کی ملتانیکر روایت، اپنی عظیم ماں کی وراثت، تعلیم اور علم کا تسلسل ہیں۔ جب راحت بانو کے باپ کو قبر میں اتارا جا رہا تھا تو ننھی بچی نے روتے ہوئے معصومیت سے کہا تھا: ” میں وی بابا دے نال ویندی آں؛” یعنی مجھے بھی اپنے بابا کے ساتھ جانا ہے۔ مگر وقت سب سے بڑا درمان گر ہے۔ ثریا ملتانیکر کی محبت، تربیت اور بیٹی کی ذہانت کے ملاپ سے راحت ملتانیکر کے فن نے جلا پائی ہے۔ اب وہ ایک مانی ہوئی گلوکارہ اور انگریزی ادب کی پروفیسر ہیں۔ حکومت پاکستان نے 2008 میں انھیں تمغہ امتیاز سے نوازا۔ راحت کے ہاں آواز اور لفظ، علم اور احساس کے سنگم پر کھڑے ہیں، کہ ثریا ملتانیکر کی ممتائیت اور محنت اور راحت کے ریاض نے ان کے فن میں رس بھر دیا ہے۔ یوں ثریا ملتانیکر کی گائیکی ایک فرد کی کہانی نہیں، تہذیبی وراثت کی صورت رواں ہے۔ ان کی آواز راگ میں ڈھل کر ایک تہذیبی کردار ہے، اور گھر ایک ایسی درس گاہ ہے جس سے نکلنے والی ہر زندگی اپنی اپنی سچائی کے ساتھ، ایک ہی تہذیبی آہنگ میں دنیا سے مکالمہ کرتی ہے۔
ملتان میں کاشانۂ درویش، ثریا ملتانیکر کا آشیانہ ہے۔ ملتانیت کی تصویر، منعم مغنیہ اور ان کا پریوار کاشانہ درویش میں مقیم ہیں۔ 20 جنوری 2026ء کو ملتان کے نمائندہ شاعر، ادیب، اساتذہ، فن کار، صحافی، افسران، ڈاکٹر، تجار، صنعت کار اور ملتان کے حاکم عامر کریم، لوحِ اعزاز نصب کرنے ثریا ملتانیکر کے گھر جمع ہوئے۔ یہ حسن والے مگر بے مروت نہ تھے۔ یہ سب ایک فن کارہ کی تکریم اور تحسین کے لئے آئے تھے۔ حافظ شیرازی، خواجہ فرید کی طرح آواز کے عارف ہیں۔ انھوں نے کہا:
بر گلشنی اگر بگذشتم چو باد صبح
نی عشق‌سرو بود و نه شوق‌صنوبرم
بوی تو می‌شنیدم و بر یاد روی تو
دادند ساقیان طرب یک دو ساغرم
میں حسنِ دنیا سے بے نیاز تھا۔ صبح دم گلستاں سے گزرتے ہوئے نہ تو مجھے کسی سرو کے عشق اور نہ کسی صنوبر کی صورت نے روکا۔۔۔ پھر میں نے تمھاری خوشبو کو سنا، خوشبو جو تیری آواز کی صورت گلستاں پر محیط تھی۔ تب باتوں نے رنگ اوڑھ لئے، لفظ مہک اٹھے اور ساقی نے مہربان ہو کر آیک آدھ جام مجھے عطا کیا۔۔۔۔
ملتان کی لگ بھگ پانچ ہزار سال کی تاریخ میں کئی فاتحین، حملہ آور صوفیاء اور آمر اس شہر میں آئے اور ملتان کی گرد میں گم ہو گئے۔ عامر کریم دوسری بار افسر بن کر آئے ہیں۔ لفظ افسر فارسی الاصل ہے اور "سر” سے نکلا ہے۔ قدیم فارسی میں سر کی نسبت سے افسر، تاج اور دیہیم کو کہتے ہے۔ یعنی افسری سر پر پڑی ذمہ داری ہے۔ اس خیال کی بازگشت انگریزی لفظ officer میں بھی ملتی ہے۔ انگلش کا آفیسر لاطینی کے officium سے ہے اور اس لفط میں فرض، خدمت اور ذمہ داری کا ملاپ ہے۔ عربی روایت میں افسر کے قریب المعنی الفاظ امیر اور والی ہیں۔ فرہاد دفتری کے مطابق مفتوحہ عجمی علاقوں میں عرب مولا تھے اور مقامی لوگ موالی کہلانے لگے تھے۔ اسلام کے پیغام کے برعکس یہ آقا اور غلام کی سیاسی جدلیات تھی!!
قدیم سندھ وادی میں افسر کے لئے سنسکرت کا لفظ ادھیکار تھا۔ ادھی کے معنی بالادست، اور کار کے معنی عمل ہیں۔ سنسکرت میں کار اور کام مختلف وظائف ہیں۔ گوپی چند نارنگ کے مطابق دنیا کے پہلے گرائمیرین Panini ملتان کے تھے۔( دراصل پانینی اٹک پار سندھو کنارے کے ایک گاؤں شالا تولا کے تھے)۔ پانینی کے ہاں ادھیکار بالادست نحوی اصول کو کہتے ہیں۔ بالادست قاعدہ جو ایک مقام پر قائم ہو کر بعد میں آنے والے متعدد قواعد پر خاموشی سے نافذ ہوتا ہے۔ قواعد جو کم بولتے ہیں مگر پورا نظام چلاتے ہیں۔ یہ تصور جب سیاست اور ریاست میں منتقل ہوا تو کوتلیہ کی "ارتھ شاشتر” میں ایک مکمل انتظامی نظام اور عہدوں کی صورت میں سامنے آیا۔ چندر گپتا موریہ کے عہد میں مرکزی سطح پر اماتیہ یعنی وزیر تھے۔ اماتیہ، مت اور متی سے ہے۔ یہ دانش مند لوگ تھے۔ انتظامی افسروں میں مہامتر (Mahāmātra) اور ادھی یکشا (Adhyakṣa) شامل تھے۔ اسی طرح مہامتر سے بڑائی اور دوستی اور یکشا سے انتظام اور انصرام کی خوشبو آتی ہے۔ مغل عہد میں فوجی افسر منصب دار اور عامل وہ دیوانی افسر تھے جو پرگنہ یا ضلع کی سطح پر محصول، حساب اور مالی نظم کے ذمہ دار تھے۔ آخری مغل تاجدار، بہادر شاہ ظفر کی ایک غزل میں بادشاہی اور افسری کی پوری جدلیات مجسم ہے:
یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
اس غزل کا آخری شعر، زمانے کی خرابی اور بادشاہ کی قسمت کی کہانی ہے:
روز معمورہء دنیا میں خرابی ہے ظفر
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا
پہلے شعر میں افسرِ شاہانہ اور تاجِ گدایانہ بہادر شاہ ظفر کے عہد کے تہذیبی سچ کو نمایاں کرتا ہے۔ کہ اقتدار اگر عوامی فلاح، تازہ کاری اور حیات بخشی سے خالی ہو جائے تو تاج چھن جاتے ہیں۔ مابعد نوآبادیاتی اور نو استعماری عہد کے افسران کا دکھ ترقی کے سرمایہ دارانہ تصور، امتیازی قوانیں، سرخ فیتے، قواعد اور مقامیت سے جڑی ہوئی مونجھ، تنہائی، شاعری، اور موسیقی میں تفاوت اور تضادات کا دکھ ہے۔ لاہور میں موچی دروازے کا تکیہ میراثیاں اور ملتان کا بھیڈی پوترا، افسروں کے دفتروں سے دور ہیں۔ موسیقی سے دوری قوموں کو اجتماعی شعور سے بیگانہ کر دیتی ہے۔ موسیقار اور لکھاری صرف فن کار اور تخلیق کار نہیں، تہذیب کے اصل محافظ ہوتے ہیں۔ اور حقیقی افسر وہ ہوتا ہے جو حاکم کم اور آباد کرنے والا زیادہ ہو۔ وہ جو اختیار کو شادابی اور زندگی میں بدل دے۔اتفاق ہے کہ عامر کے معنی آباد اور سرسبز اور معمور کرنے والے کے ہیں۔ لوح اعزاز میں اسلم انصاری، ڈاکٹر اسد اریب اور ڈاکٹر انوار احمد کے الف اعزاز کو اکرم بناتے ہے۔ اور پروفیسر اے بی اشرف کا چوتھا الف لوح مزار کی صورت ملتان کی مٹی کو معمور کرتا ہے۔ اس فہرست میں قمر رضا شہزاد، ڈاکٹر حنیف چوہدری، پروفیسر حفیظ الرحمٰن، شمیم ترمذی، ڈاکٹر مختار ظفر، خالد مسعود خان، شاکر شجاع آبادی، محمد علی واسطی اور ضمیر ہاشمی جیسے ناموران شامل ہیں۔ ان باکمال ادیبوں اور فن کاروں کے ناموں کی برکت سے 79 کمشنروں میں عامر کریم کا نام ملتان کی گلیوں اور محلوں میں آباد رہے گا۔ بہ طور کمشنر اُن کی میعادِ کار ابھی جاری ہے، اس لیے ان کی مجموعی کارکردگی پر حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے۔ ہاں مگر ثریا ملتانیکر کے کاشانہ درویش کے دروازے پر لگی تختی ملتان کے لئے برکت کا باعث رہے گی:
افسر سلطانِ گل پیدا شد از طرفِ چمن
مقدمش یا رب مبارک باد بر سرو و سمن
ترجمہ: چمن کی طرف سے گلوں کا تاجدار آیا؛ پروردگار! اس کی آمد سرو سمن کے لئے برکت کا باعث ہو۔
ثریا ملتانیکر یکم جنوری 1940ء کو پیدا ہوئی تھیں۔ جنوری ان کی پیدائش کا مہینہ ہے۔ اس حوالے سے ہمارے دوست شوکت اشفاق ایک بڑا کیک لائے تھے۔ کیک کی مٹھاس میں شہر کی محبت تھی، اور کیک پر اردو میں لکھے گئے صوتِ پاکستان اور صوتِ ملتان محض الفاظ نہیں، ایک عہد کی گواہی تھے۔ لوحِ اعزاز، شاکر حسین شاکر کی برکت، تقاریر، گائیکی، دوستوں سے بھری شام، اور ملتان کی وہ روایت جس میں احترام عبادت ہے، ایک ہی سمت اشارہ کرتے تھے کہ یہ قدیم شہر ایک عظیم ماں اور گائیکہ کو سلام کرتا ہے۔ اور ہمارے لئے خمیس یاترا کے دنوں میں رفعت عباس کی ثریا ملتانیکر پر لکھی گئی نظم دہرائے بغیر چارہ نہ تھا:
ثریا ملتانیکر
اینویں ساڈے نیڑے تیڑے
ڈو ترے گالہیں نویاں تھِن
ایں شہر وچ انگریز آئے
ایں شہر وچ فرید آئے
ثریا ملتانیکر گانوی اے
ایں شہر وچ نواں نواں گراموفون
دھپ اے، لوک ہِن، آوازاں ہِن
ایں شہر وچ ریلوے دے ، ڈو ٹیشن
تے نیلیاں آکھو سِلہاں دا چمکارا
تے تاکڑیاں وچ بلجیئم دا شیشہ
تے رات کوں اساں لالٹین بالے ہِن
نواں نواں چا پیونْ سِکھے
اساں ہیلک تھئے منڈوئے دے
تے ویہویں صدی گیت کوں مشین تے چلیندی
پر اندر ہک طبلہ نواز
ایں صدی کوں انگلیں تے گِنْدا ہے
شہر وچ چھاونْی
انگریز دی کچہری انگریز دا کمشنر
تے انگریز دی گھڑی
پر اندر ہک دُھن پئی بنْدی ہِے
ہک شاعر دے کلام دی دُھن پئی بنْدی ہِے
شاعر دے کلام دا آدر پیا کریندا ہِے
ایہہ شہر اپنْی گائیکہ دا آدر پیا کریندا ہِے
نوٹ: اس تحریر کا پہلا حصہ ثریا ملتانیکر پر ہماری آنے والی کتاب کا حصہ ہے

رانا محبوب اختر کی دیگر تحریریں پڑھیے

About The Author