آنکھیں ٹیٹو کرانے والی ماڈل کو جہنم جانے کے طعنے
امریکہ کی ایک ڈانسر اور ماڈل نے کہا کہ آنکھیں ٹیٹو کرانے کے بعد ہوٹلوں میں انہیں سروس دینے سے انکار کیا گیا اور کئی اجنبی لوگوں نے طعنے کسے کہ وہ جہنم میں جائیں گی۔
امریکی ریاست کلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ ماڈل ڈیون اوکیلی (Devon O’Kelly) نے سال 2018 میں اپنی آنکھوں پر جامنی رنگ کا ٹیٹو بنوایا تھا حالانکہ ماہرین امراض چشم نے انہیں خبردار کیا تھا کہ اس سے ان کی بینائی کو خطرہ ہوسکتا اور وہ اس سے محروم بھی ہوسکتی ہیں۔
ڈیون جنہیں 11 سال کی عمر سے ہی ٹیٹو بنوانے اور چھیدوانے سے لگاؤ ہوگیا تھا نے اب تک اپنے جسم پر 23 ٹیٹوز بنوائے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ کشیدہ کاری ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے اور معاشرے سے جسم پر کشیدہ کاری کو ناپسندیدہ قرار دیے جانے کی روش ختم ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ کشیدہ کاری اور چھیدوانا بھی اظہار رائے کی ایک شکل ہے اور بچپن میں ہی انہیں اس بات کا احساس ہوا تھا کہ بالوں کے بناؤ سنگھار، ملبوسات اور میک اپ کے علاوہ بھی اظہار رائے کے طریقے ہیں۔
ڈیون کا کہنا ہے کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ جب انہوں نے اپنے پورے بدن پر مختلف اور خوبصورت ٹیٹوز بنوائے ہونگے۔ امریکی ماڈل اب تک اپنے بدن پر 23 ٹیٹوز بنوا چکی ہیں جن میں سے بعض پر تحریر ہے “کسی پر بھروسہ نہ کریں” اور “کسی شیطانی طاقت سے مت ڈریں”۔
اپنی آنکھیں ٹیٹو بنوانے سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے انہیں پانچ سال تک تحقیق کرنا پڑی اور انہیں اس بات کا پورا پورا اندازہ تھا اس سے ان کے سر میں درد ہوسکتا ہے اور حتیٰ کہ ان کی بینائی بھی جاسکتی ہے، لیکن ان کا خیال تھا کہ اس کے لیے وہ ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
ڈیون نے اپنی آنکھوں کا ٹیٹو لاس اینجلس کی ماہر ٹیٹوسٹ لونا کوبرا سے بنوایا جنہوں نے یہ ٹیٹو ایجاد کیا تھا۔ ٹیٹو کروانے کے بعد ڈیون کی انکھیں ٹھیک ہونے میں دو ہفتے لگے اور ان کی بینائی کے ساتھ کوئی مسلہ نہیں ہوا۔
اے وی پڑھو
موہری سرائیکی تحریک دی کہاݨی…||ڈاکٹر احسن واگھا
حکایت :مولوی لطف علی۔۔۔||رفعت عباس
حکایت: رِگ ویدوں باہر۔۔۔||رفعت عباس